LIVE
Loading Breaking News...

روسی انتخابات: پیوٹن کی جماعت کی شاندار فتح اور دو تہائی اکثریت

News Image
روسی پارلیمانی انتخابات میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکمران جماعت 'متحدہ روس' نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس انتخابی کامیابی سے صدر پیوٹن کی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے، اگرچہ یوکرین کے ساتھ جاری جنگ اندرون ملک بتدریج غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔
ماسکو: روسی پارلیمانی انتخابات میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی حامی حکمران جماعت 'متحدہ روس' نے ایک بار پھر شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھاری اکثریت اپنے نام کر لی ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق صدر پیوٹن کی پارٹی نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے، جو کہ ملکی سیاست میں ان کے مضبوط تسلط کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس بڑی فتح کے بعد ماسکو میں حکومتی ایوانوں میں جشن کا ماحول ہے اور اسے صدر پیوٹن کی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کی مہر قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انتخابی فتح ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے جنگ جاری ہے اور بین الاقوامی سطح پر روس کو شدید اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ملکی سطح پر یوکرین کے ساتھ جاری اس تنازع کی مقبولیت میں کمی واقع ہو رہی ہے اور عام شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود حکمران جماعت نے انتخابی میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حکومت مخالف آوازوں کو دبانے اور اپوزیشن کی محدود موجودگی نے بھی اس انتخابی نتائج پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس بھاری اکثریت سے صدر ولادیمیر پیوٹن کا سیاسی ہاتھ مزید مضبوط ہو گیا ہے اور وہ مستقبل کے فیصلے بغیر کسی بڑی سیاسی رکاوٹ کے کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ نتائج ملک کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں صدر پیوٹن کی گرفت کو مزید مستحکم کریں گے، جبکہ عالمی سطح پر ماسکو کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔ الیکشن کے بعد حکومت کی جانب سے اندرونی استحکام اور اقتصادی بہتری کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیے جانے کا بھی امکان ہے۔