World
امریکی عدالت کا فیصلہ: فلسطینی طلباء پر فائرنگ کرنے والا شخص مجرم قرار
امریکہ میں جیوری نے ملزم جیسن ایٹن کا ذہنی توازن درست نہ ہونے کا دفاعی مؤقف مسترد کر دیا۔ ملزم کو سنہ 2023 میں تین فلسطینی نژاد طلباء کو فائرنگ کر کے زخمی کرنے کے جرم میں سزا سنائی جائے گی۔
امریکہ کی ایک عدالت نے سنہ 2023 میں ریاست ورمونٹ میں تین فلسطینی نژاد طلباء کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر زخمی کرنے والے شخص کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ جیوری نے ملزم جیسن ایٹن کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا جس میں اس نے ذہنی توازن درست نہ ہونے کا بہانہ بنایا تھا۔ اس اہم اور سنسنی خیز عدالتی فیصلے کے بعد اب ملزم کو عمر قید تک کی سزائے قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا تھا جب دنیا بھر میں تنازعات کے باعث مسلم اور عرب کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے اس کیس نے بین الاقوامی سطح پر بھی شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا۔
یاد رہے کہ نومبر 2023 میں برلنگٹن، ورمونٹ میں پیش آنے والے اس واقعے میں کینن عبدالقدید، ہشام عورتانی اور طہٰ احمد نامی تین نوجوان طلباء کو اس وقت گولیاں ماری گئی جب وہ سڑک پر پیدل جا رہے تھے اور روایتی فلسطینی رومال کفیہ پہنے ہوئے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں یہ تینوں نوجوان شدید زخمی ہو گئے تھے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچائی۔ اس حملے کے بعد مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملہ آور جیسن ایٹن کو حراست میں لے لیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیلوں نے صفائی پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا مؤکل واقعے کے وقت ذہنی طور پر مفلوج تھا اور اپنے افعال پر قابو نہیں رکھتا تھا۔ تاہم، استغاثہ نے ٹھوس شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر عدالت کو قائل کیا کہ یہ حملہ سوچ سمجھ کر اور مکمل ہوش و حواس میں کیا گیا تھا۔ جیوری نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد طویل غور و خوض کے بعد فیصلہ سنایا اور ملزم کو تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔ اس فیصلے سے متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔