LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی مقبولیت ایران جنگ اور مہنگائی کی وجہ سے 32 فیصد تک گر گئی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح ایران جنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات کے باعث کم ہو کر تاریخ کی نچلی سطح 32 فیصد پر آ گئی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کی حمایت بھی 82 فیصد سے کم ہو کر 73 فیصد پر آ گئی ہے۔
امریکہ میں سیاسی میدان سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنے کیریئر کی تاریخ کی کم ترین سطح یعنی 32 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ حالیہ عوامی جائزوں اور پولز کے مطابق، اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں ایران کے ساتھ جاری جنگی تناؤ اور ملک میں مہنگائی کی بلند شرح سرفہرست ہیں۔ ملک کے عام عوام ان اقتصادی دباؤ اور ممکنہ جنگی خطرات کی وجہ سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں، جس کا براہ راست اثر صدر کی سیاسی پوزیشن پر پڑ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سیاسی بحران کا اثر صرف عام ووٹرز تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے اندر بھی حمایت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حمایت ہمیشہ سے مستحکم رہی ہے، تاہم تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریپبلکن حامیوں کی حمایت 82 فیصد سے کم ہو کر 73 فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ نو فیصد کی کمی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پارٹی کے اندر بھی پالیسیوں بالخصوص جنگ اور معیشت کے معاملات پر تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی شہریوں کے معمول کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس پر سیاسی مخالفین بھی حکومت کو کڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ دوسری جانب، ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور کسی بڑی فوجی مہم جوئی کے خدشات نے امریکی عوام میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھا دیا ہے۔ ووٹرز اس بات سے خائف ہیں کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف معیشت کو مزید کمزور کریں گے بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔ اگر انتظامیہ نے معیشت کو سنبھالا دینے اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے، تو اس سے نہ صرف ٹرمپ کی سیاسی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے بلکہ آنے والے انتخابی مقابلوں میں بھی ان کی جماعت کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ صدر اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔