LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں بچوں کی تعلیم کا آغاز: خیموں اور کھنڈرات میں کلاسز

News Image
طویل تباہی کے بعد غزہ کے معصوم بچوں نے تباہ شدہ اسکولوں اور خیموں میں اپنی پڑھائی کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ ان بچوں کو تعلیم کے حصول کے دوران شدید مشکلات اور تعلیمی سامان کی قلت کا سامنا ہے۔
تین سال کے طویل اور تباہ کن وقفے کے بعد غزہ کے معصوم بچوں نے بالآخر کلاسوں میں واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔ طویل جنگ اور بمباری کے نتیجے میں خطے کا تعلیمی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کو درس و تدریس کے لیے خیموں اور عمارتوں کے کھنڈرات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں تعلیمی عمل کا دوبارہ شروع ہونا ایک معجزے سے کم نہیں ہے، تاہم بچوں اور اساتذہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ جنگ زدہ علاقے میں اسکولوں کی عمارتیں یا تو ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں یا پھر بے گھر خاندانوں کی پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے پڑھائی کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ بچوں کے پاس کتابیں، کاپیاں اور دیگر بنیادی تعلیمی سامان کی شدید قلت ہے، جو ان کے لیے حصولِ علم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے باوجود بچوں کے چہروں پر عزم اور علم کی روشنی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی اداروں اور امدادی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کے بچوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایک بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ اس مشکل دور میں اساتذہ اور والدین بھی بچوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور آنے والے کل کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔