LIVE
Loading Breaking News...

محمد رضوان انکوائری کیس: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

News Image
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی کو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قومی کرکٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری انویستی گیشن کے عمل میں مکمل تعاون کریں۔
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی کو قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے خلاف جاری انکوائری کے دوران ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کرکٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایجنسی کے سامنے پیش ہوں اور انکوائری کے عمل میں پورا تعاون کریں۔ یہ احکامات 17 ستمبر کو ہونے والی اس سماعت کے تحریری فیصلے میں جاری کیے گئے جو محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کے نوٹس اور انکوائری کے خلاف دائر کردہ درخواست پر کی گئی تھی۔ عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ کال اپ نوٹس محض معلومات اکٹھا کرنے کا ایک طریقہ کار ہے اور اس کا مطلب کسی غلطی کا حتمی الزام نہیں ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت علی ڈوگر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ انکوائری پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 14 کے تحت الیکٹرانک فراڈ کے الزامات کی روشنی میں شروع کی گئی ہے۔ دوسری جانب محمد رضوان کے وکیل قاضی عمیر علی نے عدالت میں دلائل دیے کہ اس معاملے کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے تھا نہ کہ ملکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے۔ تاہم، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئی سی سی کے ضوابط مقامی قوانین اور مجاز ریاستی اداروں کو تحقیقات کرنے سے نہیں روکتے، اور کھلاڑیوں کے لیے ملکی قوانین کی پابندی کرنا ہر وقت لازم ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ ابتدائی مرحلے میں اس انکوائری میں مداخلت نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ سپورٹس میں کرپشن کے خاتمے کی غرض سے کی جا رہی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ این سی سی آئی اے اس بات کو یقینی بنائے کہ کرکٹر کو غیر ضروری طور پر پریشان یا ہراساں نہ کیا جائے اور تمام کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دی جائے۔ یاد رہے کہ یہ انکوائری پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر شروع کی گئی تھی جس کا تعلق انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران مبینہ طور پر ڈریسنگ روم کی معلومات لیک ہونے اور دیگر نظم و ضبط کے معاملات سے بتایا جاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انکوائری کے حتمی نتائج کے بعد اگر فریقین کو کوئی قانونی شکایت ہو تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔