Pakistan
میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا ایم ایل او کی درخواست پر اہم فیصلہ
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی قتل کیس میں پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کی مزید بیان دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ کمیشن نے واضح کیا کہ تحقیقاتی فورم کو کیچڑ اچھالنے یا میڈیا بازی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کراچی: میر رضا علی قتل کیس کے حالات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے پیر کے روز ڈاکٹر اسامہ شیخ کی ایک اور بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر اسامہ وہی میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ہیں جنہوں نے مقتول نوجوان تاجر کا پہلا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ کمیشن کے سربراہ اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال نے اپنے تحریری حکم نامے میں مشاہدہ کیا کہ ڈاکٹر اسامہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ظاہر ہوئے تھے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس کمیشن کو بتانے کے لیے مزید حقائق موجود ہیں۔ کمیشن کے روبرو جب ان سے یہ استفسار کیا گیا کہ آیا وہ میر رضا کی موت کو خودکشی ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ صرف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ گولی سامنے سے لگی تھی۔
کیس کے آغاز سے ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شدید تنازعہ رہا ہے، اور کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعیہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم کی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان اعتراضات کے بعد مقتول کی لاش کی قبر کشائی کی گئی اور دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ پچیس سالہ میر رضا کو پیٹھ پر گولی ماری گئی تھی اور یہ خودکشی کا معاملہ نہیں ہے۔ اپنے پیر کے روز جاری کردہ حکم نامے میں جسٹس عمر سیال نے لکھا کہ ان کے استفسارات سے یہ واضح ہوا کہ ڈاکٹر اسامہ کا مقصد پولیس سرجن اور وزیر اعلیٰ پر الزام تراشی کرنا تھا، اور کمیشن کو کیچڑ اچھالنے کا اکھاڑہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ کمیشن کا بنیادی مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ درحقیقت کیا ہوا اور کہاں غفلت برتی گئی۔ جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ ان کے پاس کیس کے حوالے سے کافی معلومات موجود ہیں اور کمیشن اپنے طور پر حقائق تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے ڈاکٹر اسامہ کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب پیر کے روز ہونے والی کارروائی کے دوران دیگر گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے جن میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز حیدرآباد پرویز احمد شیخ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک گواہ احمد حسن شیخ نے مقتول اور ان کے کاروباری شراکت دار احمد بھرڈے کے درمیان چار جولائی کو طے پانے والے سرمایہ کاری اور منافع کی تقسیم کے معاہدے کی نقل کمیشن میں جمع کروائی۔ ڈی جی پرویز نے لاش کی قبر کشائی کے لیے میڈیکو لیگل بورڈ کی تشکیل سے متعلق خط اور دیگر عدالتی احکامات پیش کیے۔ کمیشن کے روبرو احمد بھرڈے کے میڈیا انٹرویوز اور خاندان کے ساتھ ملاقات کے معاملات پر بھی غور کیا گیا اور یہ ہدایت کی گئی کہ کارروائی کو متنازع بنانے یا اس میں رخل ڈالنے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔ کمیشن نے اس کیس کے سلسلے میں مزید متعلقہ افراد اور پولیس اہلکاروں کو آئندہ سماعت پر طلب کر رکھا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔