LIVE
Loading Breaking News...

روسی انتخابات: پوتین کی طاقت میں اضافہ اور جنگی تجربہ کاروں کی کامیابی

News Image
روسی پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے بعد صدر ولادیمیر پوتین کی سیاسی گرفت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ ان انتخابات میں یوکرین جنگ لڑنے والے 49 سابق فوجی اور جنگی تجربہ کار بھی پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے ہیں۔
ماسکو: روسی پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے بعد صدر ولادیمیر پوتین کی ملک پر سیاسی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ سخت کنٹرول اور جنگی ماحول میں ہونے والے ان انتخابات میں حکمران جماعت نے ایک بار پھر اپنی برتری برقرار رکھی ہے، جو کریملن کی پالیسیوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بار پارلیمنٹ میں داخل ہونے والوں میں یوکرین جنگ کے 49 تجربہ کار اور سابق فوجی بھی شامل ہیں، جنہیں کریملن کی طرف سے خصوصی حمایت حاصل تھی۔ ان جنگی ہیروز کی پارلیمنٹ میں شمولیت سے روسی حکومت کی عسکری اور سیاسی سمت مزید واضح ہوتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ماسکو جنگی تناظر میں اپنے اتحادیوں اور محاذ پر لڑنے والوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا رہا ہے۔ انتخابات کے دوران سبر حملوں اور ڈرون کارروائیوں کے باوجود حکمران جماعت نے اپنے سیاسی تسلسل کو برقرار رکھا اور حزب اختلاف کے لیے خلاء کو مزید تنگ کر دیا ہے۔ انتخابی عمل میں قبضے میں لیے گئے یوکرین کے کچھ علاقے بھی شامل کیے گئے تھے، جس پر عالمی سطح پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔ تاہم، کریملن کے ناقدین کے لیے یہ انتخابات کسی بڑے حیرت انگیز نتیجے سے خالی رہے، کیونکہ نتائج پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتے تھے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کریملن ان انتخابی نتائج کو اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کرتا ہے۔