Technology
امریکی ٹیک کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کی سرمایہ کاری پر اربوں کا خسارہ
امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دوسری سہ ماہی کے دوران مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مد میں بڑی سرمایہ کاری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران بنیادی کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی نقد رقم اور اخراجات کا فرق تقريباً ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
پالو آلٹو، کیلیفورنیا: دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور مقابلے کی فضا نے دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی اداروں کو بھی مالیاتی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے چار سرفہرست تکنیکی اداروں کو رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران اپنے بنیادی کاروباری امور سے حاصل ہونے والی نقد رقم کے مقابلے میں اے آئی کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی وجہ سے تقریباً پچانوے ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ کمپنیاں مستقبل کے ممکنہ فوائد کے حصول کے لیے آج اربوں ڈالر جھونکنے سے گریز نہیں کر رہیں۔
ٹیکنالوجی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھاری اخراجات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ تمام بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتیں۔ سرچ انجن، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور بڑے ڈیٹا ماڈلز کی تیاری کے لیے بے پناہ کمپیوٹنگ پاور اور جدید ترین ہارڈویئر کی ضرورت ہوتی ہے، جس پر کمپنیاں پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہیں۔ اگرچہ ان اداروں کے روایتی کاروبار اب بھی منافع بخش ہیں اور بڑی مقدار میں نقدی پیدا کر رہے ہیں، تاہم اے آئی پر اٹھنے والے اخراجات اس نقد آمدنی سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اس مالیاتی رجحان نے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس عزم کو سراہا جا رہا ہے کہ یہ کمپنیاں مستقبل کی ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھ رہی ہیں، وہیں دوسری طرف اس بات پر بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آیا اتنی بڑی سرمایہ کاری سے طویل مدت میں متوقع منافع حاصل ہو بھی سکے گا یا نہیں۔ بڑھتی ہوئی لاگت اور کمزور قلیل مدتی کیش فلو نے کارپوریٹ دنیا کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرا دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی مالیاتی پائیداری کو کیسے یقینی بنایا جائے۔
آئندہ آنے والی سہ ماہیوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیک ادارے اپنی اس جارحانہ سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ توقع کے مطابق تیزی سے ترقی کرتی ہے اور صارفین اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں تو یہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری مستقبل میں ان اداروں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس وقت یہ اخراجات کمپنیوں کے مالیاتی توازن اور نقد ذخائر پر ایک بہت بڑا بوجھ بن چکے ہیں، جس پر وال اسٹریٹ اور عالمی مالیاتی اداروں کی گہری نظر ہے۔