World
فوج میں بھرتی اور طبی مسائل: ایک لاکھ سے زائد درخواستیں مسترد
برطانیہ میں آزادیِ معلومات کے اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران طبی وجوہات کی بنا پر فوج کی ایک لاکھ چودہ ہزار سے زائد درخواستیں مسترد کی گئیں۔ بچپن میں ہونے والی آنکھ کی سرجری کی وجہ سے بہت سے نوجوانوں کا فوج میں خدمات انجام دینے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
برطانیہ میں سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں نوجوانوں کا مسلح افواج میں شامل ہونے کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ گیا کیونکہ ان کے بچپن میں آنکھوں کی کوئی سرجری ہوئی تھی۔ آزادیِ معلومات کے تحت حاصل ہونے والی ان تفصیلات نے فوجی بھرتی کے نظام اور اس کے سخت طبی اصولوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ چودہ ہزار سے زائد افراد کی فوج کے لیے جمع کردہ درخواستیں محض طبی بنیادوں پر مسترد کر دی گئیں۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگی حالات اور فیلڈ میں پیش آنے والے کٹھن چیلنجز کے پیش نظر فوجیوں کی جسمانی اور بصری صحت کا معیار انتہائی بلند رکھنا پڑتا ہے۔ کسی بھی پرانے میڈیکل ریکارڈ یا آنکھ کی سرجری کو مستقبل میں کسی ہنگامی صورتحال کے دوران خطرہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے بھرتی کے قوانین میں اس قسم کی سختی برتی جاتی ہے۔ تاہم متاثرہ نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کا ماننا ہے کہ بچپن میں کی جانے والی معمولی یا کامیاب سرجری کو اتنی بڑی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے جب کہ وہ اب مکمل طور پر صحت مند ہیں۔
اس صورتحال نے ماہرینِ صحت اور دفاعی تجزیہ کاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا موجودہ دور کی جدید ٹیکنالوجی اور بہتر علاج کے باوجود قوانین میں لچک پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔ بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں مگر ان کے بچپن کا ایک طبی عمل ان کے کیریئر کی راہ میں دیوار بن گیا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ دفاع کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلے کسی کے ساتھ ناانصافی کے لیے نہیں بلکہ سپاہیوں کی سلامتی اور آپریشنل تیاری کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ فوج کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہر کیس کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ غلطی سے بچا جا سکے، لیکن بنیادی حفاظتی تقاضوں پر سمجھوتہ کرنا ممکن نہیں۔