World
ریٹائرڈ افراد بچوں کی وراثت کے بجائے اپنی تعطیلات پر پیسے خرچ کرنے لگے
برطانیہ سمیت دنیا بھر میں ریٹائرمنٹ کے بعد بزرگ افراد کی ایک نئی سوچ سامنے آ رہی ہے جس کے تحت وہ بچوں کی وراثت بچانے کے بجائے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی پرتعیش دوروں اور سیر و تفریح پر خرچ کر رہے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا مقصد بڑھاپے میں زندگی بھر کی محنت کے بعد بھرپور انداز میں خوشیاں سمیٹنا اور دنیا دیکھنا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے افراد کے رویوں میں ایک دلچسپ اور انقلابی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ والدین اپنی زندگی بھر کی کمائی اور بچت کو سنبھال کر اپنے بچوں کے لیے چھوڑ جائیں گے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ تاہم اب اس سوچ میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے اور ایک بڑی تعداد میں پنشنرز اور ریٹائرڈ افراد یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی محنت کی کمائی کا ایک بڑا حصہ خود اپنی خوشیوں پر خرچ کریں گے۔ اس رجحان کے تحت وہ مہنگے ترین سیاحتی دوروں، پرتعیش ہوٹلوں اور دنیا بھر کی سیر پر ہزاروں روپے لٹانے سے دریغ نہیں کر رہے۔ اس نئی سوچ کے حامل افراد کا ماننا ہے کہ انہوں نے اپنی جوانی اور صحت کے طویل سال سخت محنت میں گزار دیے ہیں، اس لیے اب بڑھاپے کے اس دور میں ان کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بھرپور انداز میں جییں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی محض پیسوں کے ضیاع کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ نفسیاتی طور پر ایک ایسے طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے جہاں لوگ مستقبل کے اندیشوں میں گھلنے کے بجائے حال میں جینا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ بچوں کے نقطہ نظر سے بھی اس صورتحال پر ملی جلی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ نوجوان اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے والدین اپنی زندگی کو پرسکون اور خوشگوار بنا رہے ہیں، جبکہ روایتی خاندانی اقدار پر یقین رکھنے والے حلقے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ بہرحال، یہ رجحان دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور ریٹائرمنٹ انڈسٹری اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے کیونکہ اب بزرگ صارفین ایسی ٹور پیکجز کی تلاش میں رہتے ہیں جو انہیں بہترین اور یادگار تجربات فراہم کر سکیں۔