LIVE
Loading Breaking News...

خزاں کا اعتدال 2026ء: تاریخ، وقت اور فلکیاتی اہمیت

News Image
شمالی نصف کرہ میں ستمبر کا اعتدال فلکیاتی خزاں کے باضابطہ آغاز کی نوید سناتا ہے۔ اس موقع پر دن اور رات کا طول و عرض دنیا بھر میں تقریباً برابر ہو جاتا ہے۔
شمالی نصف کرہ میں ستمبر کا اعتدال (September Equinox) موسم خزاں کے فلکیاتی آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس سال بھی ستمبر کے مہینے میں دنیا کے اس خطے میں موسم کی تبدیلی کا باضابطہ سفر شروع ہوگا جس سے ماحول میں خنکی اور درختوں کے پتے جھڑنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سورج خط استوا کے بالکل اوپر سے گزرتا ہے جس کے نتیجے میں کرہ ارض کے تمام حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے۔ ستمبر کے اس اعتدال کو دنیا بھر میں مختلف ثقافتوں اور سائنسی اداروں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق، یہ تبدیلی زمین کے سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرنے اور اس کے محور کے جھکاؤ کی وجہ سے رونما ہوتی ہے۔ موسم گرما کی طویل اور گرم دوپہروں کے بعد یہ اعتدال انسانوں اور ماحول کو ایک نئی توازن بھری فضا فراہم کرتا ہے جہاں درجہ حرارت میں بتدریج کمی ریکارڈ کی جاتی ہے۔ شمالی نصف کرہ کے رہنے والے اس عرصے کے دوران دن کے چھوٹے ہونے اور رات کے طویل ہونے کے عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں جو کہ سردیوں کی آمد کا پیش خیمہ بھی ہوتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے اعتدال کا یہ لمحہ سال میں دو بار آتا ہے، جن میں سے ایک مارچ میں اور دوسرا ستمبر میں رونما ہوتا ہے۔ ستمبر کا یہ فلکیاتی واقعہ نہ صرف موسم کے بدلنے کا اعلان کرتا ہے بلکہ یہ قدرت کے وسیع نظام میں توازن اور قاعدے کی ایک خوبصورت مثال بھی پیش کرتا ہے، جس سے دنیا بھر کے محققین اور عوام یکساں طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔