Education
اسکولز اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے تیار نہیں، حکومتی رہنمائی کا مطالبہ
ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے مصنوعی ذہانت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے سے جنگ یا وبائی مرض کی طرح فوری طور پر نمٹنا چاہیے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا کے دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں تعلیمی نظام کے اندر اس کے نفاذ اور اثرات کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکولوں کی اکثریت مصنوعی ذہانت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے اور تعلیمی ادارے حکومت کی طرف سے واضح رہنمائی کے منتظر ہیں۔ معروف مصنف اور ماہر تعلیم سر انتھونی سیلڈن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تعلیمی اثرات کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے جتنا کہ کسی جنگ یا وبائی مرض کو لیا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر وقت پر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے تعلیمی اور معاشرتی میدان میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اساتذہ اور اسکول انتظامیہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ طلباء کی جانب سے اے آئی ٹولز جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹو ماڈلز کا استعمال تعلیمی ایمانداری اور سیکھنے کے عمل کو کیسے متاثر کر رہا ہے۔ بہت سے اداروں میں اس حوالے سے کوئی ضابطہ اخلاق یا پالیسی موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی عمل میں ابہام بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وزارتِ تعلیم کو فوری طور پر تمام اسکولوں کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنا چاہیے تاکہ طلباء کو اس ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی ترغیب دی جا سکے جبکہ اس کے غلط استعمال یا نقل کے رجحانات کی روک تھام بھی یقینی بنائی جا سکے۔ والدین اور اساتذہ دونوں کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت اس نازک موڑ پر آگے بڑھ کر پالیسی سازی کرے تاکہ آنے والی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے فوائد بھی مل سکیں اور ان کی تعلیمی تربیت بھی محفوظ خطوط پر جاری رہے۔