Technology
گریگ بارباسیا کا سرکاری عہدہ چھوڑ کر پ্যালানٹیر واپسی کا اعلان
وفاقی چیف انفارمیشن آفیسر گریگ بارباسیا رواں ماہ کے آخر میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ وہ حکومت چھوڑنے کے بعد ایک بار پھر معروف ٹیکنالوجی کمپنی پ্যালানٹیر میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
وفاقی چیف انفارمیشن آفیسر (সিআইও) گریگ بارباسیا نے اپنے سرکاری منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور وہ اگست کے اواخر میں اپنی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد نجی شعبے کی معروف کمپنی پ্যালানٹیر میں دوبارہ شمولیت اختیار کریں گے۔ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ایڈورڈ فورسٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بارباسیا کی سرکاری خدمات کا دورانیہ 31 اگست کو باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گا، جس کے بعد وہ اپنے سابقہ ادارے کا دوبارہ رخ کریں گے۔ اپنے سرکاری دور کے دوران، بارباسیا نے وفاقی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اصلاحات نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے جن کا مقصد حکومت کے اندر ڈیٹا مینجمنٹ اور سکیورٹی کو بہتر بنانا تھا۔ ان کا یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ پبلک سیکٹر سے دوبارہ کارپوریٹ سیکٹر میں قدم رکھ رہے ہیں۔ پ্যালানটیر کے ساتھ ان کا پرانا تعلق رہا ہے اور کمپنی کے لیے ان کا یہ نیا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرکاری امور میں ان کا تجربہ پ্যালানটیر کے لیے سرکاری کنٹریکٹس اور سکیورٹی سے متعلقہ پروجیکٹس میں انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ بارباسیا کی روانگی کے بعد، اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت ان کے متبادل کے طور پر کس شخصیت کا انتخاب کرتی ہے جو ان کے ادھورے منصوبوں کو آگے بڑھا سکے۔