LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں خطاب اور عالمی سیاست

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں واپسی نے عالمی سطح پر شدید تجسس کو جنم دیا ہے۔ ان کے اس خطاب پر ایران تنازع اور غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر اور نمایاں عالمی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر واپس آرہے ہیں، جس نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ ان کی یہ واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں کئی اہم اور پیچیدہ بحران شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ان میں سرفہرست وہ کشیدگی ہے جو خود ان کے دورِ اقتدار میں شروع ہونے والے ایران تنازع کی وجہ سے خطے میں پھیل چکی ہے۔ عالمی رہنما اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ اپنے اس دور کے اثرات اور موجودہ صورتحال پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، غزہ میں اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں اور فلسطینی شہریوں کو درپیش مشکلات بھی اس اجلاس کے مرکزی موضوعات میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کی کڑی جانچ کر رہی ہیں کہ امریکہ اس خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنے اہداف کا کس طرح تعین کرتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی سیاست انتہائی حساس موڑ پر پہنچ چکی ہے اور ہر ملک کی نگاہیں واشنگٹن کی آئندہ پالیسیوں پر مرکوز ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں شریک دیگرممالک کے نمائندے اس بات کے خواہاں ہیں کہ امریکہ عالمی امن کے لیے اپنے کردار کو واضح کرے اور جاری تنازعات کے پرامن حل کے لیے عملی اقدامات تجویز کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ خطاب نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل کی عکاسی کرے گا بلکہ یہ عالمی معیشت، سلامتی اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس خطاب کے بعد دنیا بھر میں نئی سفارتی صف بندیوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔