LIVE
Loading Breaking News...

حافظ نعیم الرحمن کا ٹرین تاخیر پر سوال، جماعت اسلامی کا احتجاجی مارچ جاری

News Image
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے سکھر میں شالیمار ایکسپریس کی چار گھنٹے کی تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کی ناقص کارکردگی قرار دیا ہے۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پیر کے روز سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شالیمار ایکسپریس کی روانگی میں چار گھنٹے کی تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس تاخیر کا تعلق ان کے ٹرین مارچ سے ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تاخیر معمول کا حصہ ہے تو پھر وفاقی حکومت کو پاکستان ریلویز کی کارکردگی پر عوام کو جواب دینا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی کو فی الفور ختم کیا جائے تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے اتوار کے روز کراچی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک بڑا احتجاجی مارچ شروع کیا تھا، جو رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے اتوار کی رات سکھر پہنچا تھا اور وہاں سے ملتان روانہ ہونا تھا۔ پاکستان ریلویز کے حکام کے مطابق ٹنڈو آدم کے قریب انجن میں خرابی کے باعث شالیمار ایکسپریس تاخیر کا شکار ہوئی جس کی وجہ سے سکھر کے روہڑی ریٹلوے اسٹیشن پر جماعت اسلامی کے کارواں کو بھی طویل انتظار کرنا پڑا۔ روہڑی اسٹیشن سے شالیمار ایکسپریس شام کے وقت ملتان کے لیے روانہ ہوئی جہاں حافظ نعیم الرحمن نے حامیوں سے خطاب کیا۔ ملتان پہنچنے کے بعد اب جماعت اسلامی کا یہ کارواں سڑک کے راستے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا دوسرا مرحلہ طے کرے گا۔ جماعت اسلامی کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ مارچ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور اب ملتان کے راستے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور خیبر سے بھی مارچ کے قافلے اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ پٹرولیم لیوی واپس لے کر عوام کو مہنگائی کے طوفان سے نکالیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دینے کے اسکیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام سے ماہانہ ایک سو پچاس ارب روپے لیوی کی مد میں وصول کر رہی ہے جبکہ ریلیف کے لیے صرف چھبیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔