World
چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ امریکہ اور ٹرمپ سے ملاقات
چینی صدر شی جن پنگ دو طرفہ تعلقات اور عالمی امور پر مذاکرات کے لیے 23 سے 25 ستمبر تک امریکہ کا دورہ کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کا مقصد تجارتی کشیدگی کو کم کرنا اور تزویراتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
بیجنگ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ رواں ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم مذاکرات کریں گے۔ چینی حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر شی 23 سے 25 ستمبر یعنی بدھ سے جمعہ تک امریکہ میں قیام کریں گے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے سربراہان چین امریکہ تعلقات اور عالمی امن و ترقی کے اہم امور پر گہرے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ بیجنگ اس موقع پر واشنگتن کے ساتھ مل کر تعمیری اسٹریٹیجک استحکام کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، بات چیت اور تعاون بڑھانے اور اختلافات کو احسن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔دوسری جانب واشنگتن نے بھی تصدیق کی ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کی یہ ملاقات تجارت، ٹیکنالوجی اور وسیع تر اسٹریٹیجک امور پر کشیدگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ بدھ کے روز جوائنٹ بیس اینڈریوز پر چینی صدر کا ذاتی طور پر استقبال کریں گے، جس کے بعد اگلے روز باضابطہ ملاقاتیں ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دورے کے دوران چینی ہم منصب کے ساتھ تمام اہم موضوعات پر کھل کر بات چیت کریں گے۔ملاقات کے ایجنڈے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ اور تائیوان کے معاملے پر ممکنہ فوجی محاذ آرائی کے خدشات سرفہرست ہیں۔ اگرچہ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً ایک سال سے ٹیرف کی سطح پر عارضی جنگ بندی برقرار ہے، تاہم وہ تحال کوئی حتمی اور مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ چین کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار اور وائس پریمیئر اس وقت امریکہ میں موجود ہیں جہاں انہوں نے امریکی وزیرِ خزانہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ عالمی تنازعات اور ایران کے معاملے پر بھی اس ملاقات میں بات چیت متوقع ہے کیونکہ چین تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات اور امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے کوشاں ہے۔