Sports
ایشিয়ান گেমস: پاکستانی ٹیبل ٹینس ٹیموں کی ناقص کارکردگی
ایشিয়ান گেমস کے ابتدائی دنوں میں پاکستانی ٹیبل ٹینس ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ویمن ٹیم بغیر کوئی میچ جیتے گروپ مرحلے سے باہر ہو گئی ہے جبکہ مینز ٹیم کو بھی ابتدائی مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
ایشিয়ান گেমস میں پاکستان کی ٹیبل ٹینس ٹیموں کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا ہے اور ابتدائی دو دنوں میں دونوں ٹیمیں کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں۔ ویمن ٹیم گروپ مرحلے میں ایک بھی میچ جیتے بغیر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے جبکہ مردوں کی ٹیم کو بھی اپنے ابتدائی مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ویمن ٹیم کو پیر کے روز اپنے آخری گروپ ایف میچ میں بھارت کے ہاتھوں 3-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ اسکائی ہال ٹয়وٹا میں کھیلا گیا۔ اس سے قبل اتوار کو بھی پاکستان کو سنگاپور اور انڈونیشیا کے خلاف یکساں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بھارت کے خلاف میچ میں 15 سالہ علینہ خان صرف 10 منٹ میں تجربہ کار سوتیرتھا مکھرجی سے ہار گئیں۔ اس کے علاوہ 19 سالہ کلثوم خان اور فاطمہ خان بھی اپنے اپنے میچوں میں سیدھے سیٹوں میں شکست سے دوچار ہوئیں، جس کی وجہ سے پوری مہم کے دوران پاکستانی ٹیم ایک گیم بھی جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اتوار کے روز ہونے والے مقابلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی کمزور رہی جہاں سنگاپور اور انڈونیشیا کے خلاف میچوں میں علینہ خان، کلثوم خان، فاطمہ خان اور 55 سالہ نوشین اسلم نمایاں مزاحمت پیش کرنے میں ناکام رہیں۔ دوسری جانب مردوں کی ٹیم کی کارکردگی بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں رہی۔ پاکستان کو اتوار کے روز ایران اور انڈونیشیا کے خلاف دونوں ابتدائی میچوں میں 3-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ طہٰ بلال اور عباس خان اپنے کسی بھی میچ میں کوئی گیم جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے، تاہم محمد خان نے انڈونیشیا کے محمد نگارا کے خلاف ایک گیم ضرور اپنے نام کیا۔ بین الاقوامی سطح پر اس خلیج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی ٹیبل ٹینس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ بڑے مقابلوں میں اس قسم کے شرمناک نتائج سے بچا جا سکے اور ملک کا نام روشن کیا جا سکے۔