LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے مقابلے میں ڈیزل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں

News Image
مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں کے باعث تیل صاف کرنے والی ریفائنریز کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ توانائی بحران دراصل خام تیل کا نہیں بلکہ ریفائنڈ شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا بحران ہے۔
عالمی منڈی میں پٹرول پمپوں پر ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی جاری جنگیں ہیں جنہوں نے نہ صرف خام تیل کی سپلائی کو متاثر کیا ہے بلکہ ریفائنریز کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ریفائننگ کی صلاحیت میں کمی کے اثرات اب شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فرانسیسی حکام کے تخمینے کے مطابق عالمی مارکیٹ میں یومیہ تقریباً ایک کروڑ بیرل خام تیل کی کمی کا سامنا ہے، جو کہ اس مقدار کے مقابلے میں ایک بڑا نقصان ہے جب تنازعہ شروع ہونے سے پہلے عالمی معیشت یومیہ تقریباً 10 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل استعمال کر رہی تھی۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے ابتدائی طور پر یومیہ دو کروڑ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تھی، تاہم بعد میں سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے راستے برآمدات کا رخ موڑ دیا تھا۔ اب یمن کے حوثی باغیوں کے باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سعودی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں جس سے عالمی سپلائی چین مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں کا بحران خاص طور پر یورپ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شدت اختیار کر گیا ہے جہاں ڈیزل کی قیمتوں نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ فرانس میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پال کرگمین کے مطابق موجودہ عالمی توانائی بحران دراصل خام تیل کا نہیں بلکہ ریفائنڈ شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا بحران ہے اور اس کی بنیادی وجہ ریفائننگ کی صلاحیت میں عالمی قلت ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے روسی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر پابندیوں اور یوکرینی حملوں کے باعث روسی ریفائنریز کو پہنچنے والے نقصان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں کیونکہ ایرانی فورسز نے خطے کی ریفائنریز کو نشانہ بنایا ہے، جس کی وجہ سے ڈیزل کی مارکیٹ طویل عرصے تک دباؤ کا شکار رہنے کا اندیشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کا فوری حل آسان نہیں ہے کیونکہ کاغذ پر اگرچہ کچھ اضافی گنجائش موجود ہے لیکن اسے فوری طور پر فعال کرنا اور درست قسم کا خام تیل فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی علاقوں سے سپلائی محدود رہی اور تجارتی ذخائر تیزی سے ختم ہوتے رہے تو قیمتوں میں مزید اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیزل کی طلب میں کمی لانا بھی مشکل ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، تعمیرات اور صنعتوں کے پاس قلیل مدت میں اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔