LIVE
Loading Breaking News...

بنوں میں ایف سی کے دو لاپتہ اہلکاروں کی لاشیں برآمد

News Image
بنوں میں گزشتہ روز لاپتہ ہونے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دو اہلکاروں کی لاشیں کمالی قبرستان سے برآمد کر لی گئی ہیں۔ دونوں اہلکاروں کو اتوار کی شام نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جن کی تلاش کے لیے سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے دو لاپتہ اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہو گئی ہیں۔ ریسکیو 1122 اور مقامی ذرائع کے مطابق دونوں اہلکاروں کی لاشیں پಲೋسی کے علاقے میں واقع کمالی قبرستان سے ملیں، جنہیں ایک روز قبل نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کی شناخت حوالدار اسحاق اور سپاہی عمر حیات کے ناموں سے ہوئی ہے، جو کہ پلاٹون نمبر 59 سے وابستہ تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دونوں اہلکار اتوار کی شام کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع کرم گڑھی کے علاقے سیفان کوزی خیل سے نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے گئے تھے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور ان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ بنوں کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایلیٹ فورس کے ایک سپاہی کی شہادت کے صرف ایک ہفتے بعد پیش آیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹ estudos (PICSS) کے مرتب کردہ ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں جولائی کے مقابلے میں اگست کے مہینے میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صوبے کے ضم شدہ اضلاع کے علاوہ دیگر علاقوں میں اگست کے دوران 54 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی، جو کہ تقریباً پچاس فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے باعث دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان میں کمی واقع ہوئی ہے۔