LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد مارچ: پنجاب اور سندھ سے اضافی پولیس طلب، سکیورٹی سخت

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون کے اطراف کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ سے بھی اضافی پولیس نفری طلب کر لی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے متوقع احتجاجی مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے سیاسی کشیدگی میں اضافے کے بعد دارالحکومت کی انتظامیہ نے ممکنہ دھرنے اور احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں، اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکے جانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، دارالحکومت کے اہم ترین علاقے یعنی ریڈ زون کے اطراف اور داخلی و خارجی راستوں پر بھاری کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کو حساس تنصیبات اور سرکاری دفاتر تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ ان حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے اور مسافروں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انتظامیہ نے سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے باہر سے بھی مدد طلب کی ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں سے پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی ہے، جو اسلام آباد پولیس کے ساتھ مل کر شہر کے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرے گی۔ وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شہر کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور تمام حساس مقامات پر اضافی اہلکار تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے جاری مطالبات اور حتمی احتجاجی کال کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد انتظامیہ کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی یا تصادم کو ٹالنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے، جبکہ شہریوں کو بھی غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔