LIVE
Loading Breaking News...

لتھوانیا کی روس کے خلاف دفاعی تیاری اور انخلا کے منصوبے

News Image
لتھوانیا کے وزیراعظم نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک ماسکو کی جانب سے مسلسل خطرات محسوس کرتا ہے اور جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملک میں انخلا کے جامع منصوبے بھی تیار رکھے گئے ہیں۔
لتھوانیا کی قیادت نے ایک بار پھر روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات پر کھل کر بات کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ملک کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ لتھوانیا کے عوام اور حکومت ماسکو کی طرف سے لگاتار پیدا ہونے والے دباؤ اور خطرات کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ملک کے دفاع کے لیے عزم انتہائی پختہ ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف بھرپور انداز میں جوابی کارروائی کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ لتھوانیا کی افواج اور دفاعی ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ ملک کی عسکری تیاریوں کا مقصد دشمن کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ چھوٹی ریاست ہونے کے باوجود لتھوانیا اپنی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر ممکن طریقے سے ملک کا دفاع کیا جائے گا۔ دفاعی عزم کے ساتھ ساتھ حکومت نے کسی بھی بدترین ممکنہ صورتحال کے پیش نظر شہری آبادی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں جامع انخلا کے منصوبے تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی حالت میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ تیاری کا یہ دوہرا رخ، یعنی لڑنے کا جذبہ اور پرامن انخلا کا بندوبست، ملک کی مجموعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ موجودہ یورپی سکیورٹی منظرنامے میں بالٹک ریاستیں طویل عرصے سے روس کی پالیسیوں کو لے کر تشویش میں مبتلا ہیں۔ لتھوانیا کی جانب سے اس تازہ ترین بیان سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی اور دفاعی تیاریوں کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں تمام متعلقہ ممالک اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عسکری حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔