Health
کینٹ میننجائٹس وبا: سائنسدانوں نے شدت کی وجہ تلاش کر لی
برطانیہ کے علاقے کینٹ میں پھیلنے والی میننجائٹس کی خطرناک وبا کی اصل وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی ذمہ دار بیکٹیریا نے نیا جینیاتی مواد حاصل کر لیا تھا جس کی وجہ سے انفیکشن زیادہ شدید ہو گیا۔
برطانیہ کے علاقے کینٹ میں حال ہی میں پھیلنے والی میننجائٹس کی خطرناک وبا کے حوالے سے طبی ماہرین نے ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کو پھیلانے والے بیکٹیریا نے کچھ نیا جینیاتی مواد اپنے اندر جذب کر لیا تھا، جس کی وجہ سے یہ وبا توقع سے کہیں زیادہ شدید اور خطرناک ثابت ہوئی۔ ماہرین صحت کے مطابق اس جینیاتی تبدیلی نے بیکٹیریا کی بیماری پھیلانے کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مائکرو بایولوجی اور جینیاتی تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ بیکٹیریا وقت کے ساتھ ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کینٹ کے واقعے میں بھی یہی دیکھا گیا کہ بیکٹیریا کے تناسل میں ایک ایسی تبدیلی رونما ہوئی جس نے انسانی جسم کے مدافعتی نظام کے خلاف اس کی مزاحمت کو مضبوط کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ مریضوں میں علامات بہت تیزی سے ظاہر ہوئیں اور بیماری نے سنگین رخ اختیار کر لیا۔
محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی جینیاتی تبدیلیاں عام طور پر وبائی امراض کی شدت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اس دریافت کے بعد طبی ماہرین اور ویکسین تیار کرنے والے اداروں کے لیے نئی راہیں کھل گئی ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے تغیرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس تحقیق سے میننجائٹس کے علاج کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور نئی اور موثر ویکسینز کی تیاری میں بڑی مدد ملے گی، جس سے آئندہ اس نوعیت کے خطرناک وبائی حملوں کو روکا جا سکے گا۔