LIVE
Loading Breaking News...

جی سیون کا ایران سے حوثیوں کی مسلح حمایت بند کرنے کا مطالبہ

News Image
جی سیون ممالک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ایک بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنا بند کرے۔ انہوں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کشیدگی سے عالمی توانائی کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے قریب آتے ہی دنیا بھر کی توجہ اہم سفارتی اور علاقائی امور پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اسی پس منظر میں دنیا کی سرفہرست معیشتوں کے گروپ جی سیون (G7) نے ایک اہم اور سخت بیان جاری کیا ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری طور پر بند کرے۔ جی سیون کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خطے میں توازن برقرار رکھنے اور امن کی بحالی کے لیے تہران کو اپنی مداخلت ختم کرنا ہوگی۔ بیان میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ جی سیون ممالک کا کہنا ہے کہ یہ حملے نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یمن میں جاری لڑائی میں اس طرح کی کشیدگی سے عالمی توانائی کی سلامتی کو بھی براہ راست خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں پر منڈلاتے ان خطرات نے بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے عین قبل جی سیون کا یہ مشترکہ مؤقف ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ عالمی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یمن کے تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جائے اور کسی بھی ایسی بیرونی کارروائی سے گریز کیا جائے جو بحران کو مزید سنگین بنائے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر اس مسئلے پر مزید اہم سفارتی ملاقاتیں اور مشاورت کی جائے گی۔