World
جی سیون کا حوثیوں سے حملے روکنے کا مطالبہ اور ایران کو وارننگ
جی سیون کے وزرائے خارجہ نے یمنی حوثی گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سعودی عرب اور بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملے بند کر دے۔ اس کے ساتھ ہی وزراء نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنا بند کرے۔
عالمی طاقتوں کے گروپ جی سیون (G7) کے وزرائے خارجہ نے یمنی حوثی گروپ سے سخت مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر سعودی عرب اور بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے بند کرے۔ وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے حوثیوں کی عسکری کارروائیوں کا خاتمے ناگزیر ہے۔ بین الاقوامی شپنگ پر ہونے والے ان حملوں سے عالمی معیشت اور سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اس مشترکہ بیان میں ایران کے کردار پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جی سیون کے وزراء نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یمنی حوثی گروپ کو اسلحہ کی فراہمی اور عسکری معاونت فوری طور پر بند کرے۔ مغربی ممالک کا طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ یمن میں جاری تنازع کے پیچھے تہران کی پشت پناہی کارفرما ہے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ وزراء نے واضح کیا کہ ایران کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے والی سرگرمیوں سے باز رہنا چاہیے۔
بین الاقوامی برادری نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حوثی گروپ کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں نے سمندری تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے کئی جہاز رانی کمپنیوں کو طویل اور متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ جی سیون کے اس تازہ ترین مطالبے سے خطے میں سفارتی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔