World
یمن کی صورتحال: حوثیوں کی لڑائی اور ہزاروں افراد کی نقل مکانی
یمن میں حوثیوں اور مخالف قوتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقامات پر قبضہ کرنے کے لیے لڑائی میں شدید تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو آخری وقت میں حوثیوں کے خلاف فضائی حملے منسوخ کر دیے تھے۔
یمن میں جاری کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب حوثیوں اور مخالف قوتوں کے درمیان اہم اسٹریٹجک بلند مقامات پر قبضہ جمانے کے لیے شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ زمینی لڑائی میں تیزی آنے کے بعد سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ امدادی تنظیموں نے اس انسانی المیے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرین تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اس کشیدہ ماحول میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب نو منتخب یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر اتوار کے روز حوثیوں کے خلاف منصوبہ بند فضائی حملوں کو آخری لمحے میں روک دیا۔ ان اطلاعات نے خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس فیصلے کی باضابطہ وجوہات کے بارے میں ابھی تک مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
یمن کے اس تنازع نے ایک بار پھر خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے جہاں بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی سالوں کی جنگ کی وجہ سے تباہ حال ہے۔ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یمن میں ایک بہت بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے کے امن اور استحکام پر مرتب ہوں گے۔