LIVE
Loading Breaking News...

برازیل الیکشن 2024: لولا اور بولسونارو میں سخت مقابلہ

News Image
برازیل میں اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ تازہ ترین جائزوں کے مطابق موجودہ صدر لوئز انیسیو لولا دا سلوا اور فلاویو بولسونارو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
برازیل کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ آئندہ ماہ اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں انتہائی تیز ہو چکی ہیں۔ تازہ ترین عوامی جائزوں اور سروے رپورٹس کے مطابق، ملک کے موجودہ صدر لوئز انیسیو لولا دا سلوا اور ان کے اہم سیاسی حریف فلاویو بولسونارو کے درمیان ووٹوں کا تناسب بالکل برابر دکھائی دے رہا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے اور انتخابی دنگل مزید دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔ لوئز انیسیو لولا دا سلوا برازیل کی تاریخ کے مقبول ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو اس بار صدارت کے لیے اپنی چوتھی غیر مسلسل مدت کے لیے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں ملک کے نچلے طبقے کی بہتری اور سماجی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے شروع کیے گئے، جن کی وجہ سے ووٹرز کا ایک بڑا طبقہ اب بھی ان کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم، ملک کو درپیش معاشی چیلنجز اور مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ سے ان کے مخالفین کو تنقید کا موقع ملا ہے، جس کا فائدہ دوسری سیاسی جماعتیں اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، فلاویو بولسونارو اور ان کے اتحادی بھی انتخابی مہم میں پوری قوت سے حصہ لے رہے ہیں۔ بولسونارو خاندان کے ووٹرز کی ایک مخصوص اور وفادار تعداد موجود ہے جو روایتی دائیں بازو کی سیاست کی حامی ہے۔ تازہ ترین سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ دونوں رہنماؤں کی مقبولیت کا گراف فی الحال ایک ہی سطح پر کھڑا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر کا الیکشن برازیل کی سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ تناؤ اور سنسنی خیز انتخابات میں سے ایک ہوگا۔ انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہےےے چند ہفتوں میں انتخابی مہم کا رخ طے کرے گا کہ برازیل کے عوام کس امیدوار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، معاشی پالیسیاں، روزگار کے مواقع اور ملکی سلامتی جیسے امور اس الیکشن میں سب سے اہم مدعے رہیں گے۔ دونوں امیدوار ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ملک بھر میں ریلیاں نکال رہے ہیں اور حتمی نتائج سے پہلے کسی بھی پیشگوئی سے گریز کیا جا رہا ہے۔