LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے خلاف کینیڈا میں مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی اسکول فائرنگ کیس میں نامزد

News Image
کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا نے اوپن اے آئی کے خلاف باضابطہ قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ اس مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم نے مہلک دھمکیوں کو نظر انداز کیا، جس کے بعد سخت حفاظتی اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کی حکومت نے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف ایک تاریخی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کا بنیادی مقصد ٹمبلر رج کے مقام پر پیش آنے والے المناک اسکول فائرنگ کے واقعے میں چیٹ جی پی ٹی کے ممکنہ کردار کو بے نقاب کرنا اور اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے دائر کیے جانے والے اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ٹیک کمپنی سنگین نوعیت کی مہلک دھمکیوں اور انتباہات کو نظر انداز کرتی رہی، جس کی وجہ سے یہ دلخراش واقعہ رونما ہوا۔ مقدمے کے متن کے مطابق، جدید مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو صارفین کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ ڈیزائن کیا جانا چاہیے، لیکن اس معاملے میں غفلت برتی گئی۔ برٹش کولمبیا کی حکومت نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اوپن اے آئی کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے پرتشدد واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی اگر بغیر کسی مناسب چیک اینڈ بیلنس کے استعمال کی جائے تو وہ معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس قانونی قدم کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال، ذمہ داری اور ضابطہ کار پر ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اب تک ان کمپنیوں کو صارفین کے اقدامات پر قانونی طور پر براہ راست جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ اگر عدالت اس مقدمے میں مدعی کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو اس سے دنیا بھر میں اے آئی انڈسٹری کے ضابطے اور پالیسیاں یکسر تبدیل ہو سکتی ہیں، اور کمپنیوں کو زیادہ سخت سکیورٹی پروٹوکول اپنانے ہوں گے۔