Sports
پاکستان نے ایشیائی کھیلوں میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا
پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشیائی کھیلوں کے تیسری پوزیشن کے میچ میں بنگلہ دیش کو اکتیس رنز سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔ ام ہانی کی شاندار گیند بازی اور کپتان فاطمہ ثناء کی جارحانہ اننگز نے قومی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
جاپان کے شہر نشن میں جاری ایشیائی کھیلوں کے ویمنز کرکٹ مقابلے کے کانسی کا تمغہ جیتنے والے انتہائی اہم اور سنسنی خیز میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو اکتیس رنز سے شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کر لگی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی قومی ٹیم نے ایونٹ میں پوڈیم پر جگہ بناتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کیا۔ میچ میں پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ایک سو پینتالیس رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم مقررہ اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر ایک سو چودہ رنز ہی بنا سکی۔ قومی بولر ام ہانی نے شاندار اور انتہائی نپی تلی گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چار اوورز میں صرف دس رنز دے کر تین اہم کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جس میں ایک میڈن اوور بھی شامل تھا۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پچھلے ایشیائی کھیلوں کے کانسی کے تمغے کے میچ میں پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس طرح قومی ٹیم نے ماضی کا بدلہ بھی چکتا کر لیا۔ ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کا آغاز تو اچھا رہا جہاں گل فیروزہ اور شوال ذوالفقار نے چھتیس رنز کی شراکت قائم کی، تاہم اس کے بعد مڈل آرڈر کی زبردست ناکامی کے باعث گرین شرٹس کا اسکور ستاون رنز پر پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر پہنچ گیا تھا۔ اس مشکل ترین وقت میں کپتان فاطمہ ثناء نے شاندار قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنبھل کر کھیلا اور ایک جارحانہ اننگز کھیلی۔ فاطمہ ثناء نے صرف تیس گیندوں پر تین چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے پینتالیس رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کے مجموعی اسکور کو باوقار مقام تک پہنچایا۔ ان کا ساتھ عالیہ ریاض نے دیا جنہوں نے بائیس گیندوں پر پچیس رنز بنائے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان اہم شراکت داری کی بدولت پاکستان نے بنگلہ دیش کے سامنے ایک مشکل ہدف رکھا۔ ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم کو شروع ہی سے پاکستانی بولرز کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ام ہانی اور تسمیہ رباب نے ابتدائی اوورز میں ہی بنگلہ دیش کے تین اہم بلے بازوں کو آؤٹ کر کے ان کی اننگز کی کمر توڑ دی۔ بنگلہ دیش کی جانب سے نگار سلطانہ اور شرمین اختر نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی اور چوتھی وکٹ کے لیے شراکت داری قائم کی، لیکن پاکستانی بولرز نے بہترین فیلڈنگ اور نپی تلی بولنگ کی بدولت انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ عائشہ ظفر اور ناشرہ سندھو نے بھی ایک ایک وکٹ حاصل کی جبکہ کپتان فاطمہ ثناء نے ایک بار پھر گیند سے کمال دکھاتے ہوئے اہم وکٹ اپنے نام کی۔ اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان ویمنز ٹیم نے ایشیائی کھیلوں کے اپنے اس سفر کا اختتام ایک شاندار تمغے کے ساتھ کیا ہے۔