Politics
جماعت اسلامی کا سکھر سے سپر ٹرین مارچ اور ٹرین کی تاخیر پر سوالات
جماعت اسلامی کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد کی طرف دوسرے مرحلے کے تحت سکھر سے روانہ ہو گیا۔ اس موقع پر رہنماؤں نے ٹرین کی تاخیر پر کڑے سوالات اٹھائے اور حکومتی اقدامات پر تنقید کی۔
جماعت اسلامی کا 'سپر ٹرین مارچ' اپنے دوسرے مرحلے کے تحت اندرون سندھ کے اہم شہر سکھر سے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ اس دوران جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماؤں کی طرف سے ٹرین کی غیر معمولی تاخیر پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں اور انتظامیہ کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی ملک بھر میں جاری مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاجی تحریک چلارہی ہے، جس کا مقصد اسلام آباد میں ایک بڑا دھرنا دینا ہے۔
روانگی کے اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرین کی تاخیر کے معاملے کو سختی سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر قافلے کو روکنے یا اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جو کہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے حربوں سے کارکنان کا جوش و خروش کم نہیں ہوگا اور عوام کے حقوق کی جنگ ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب، وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کی انتظامیہ کو بھی اس متوقع طویل مارچ اور دھرنے کے پیش نظر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے بھی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سے رابطہ کیا ہے اور ان سے اسلام آباد کا دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک عوام کے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور بجلی کے بلوں میں ریلیف نہیں دیا جاتا، ان کا احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ سکھر سے روانہ ہونے والا یہ قافلہ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی طرف بڑھے گا، جہاں دیگر مقامات سے آنے والے کارکنان بھی اس احتجاج کا حصہ بنیں گے۔ اس صورتحال نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ملک بھر کی نگاہیں اسلام آباد کی طرف لگی ہوئی ہیں۔