Politics
لاہور ہائی کورٹ میں علیمہ خان کی نظربندی کیخلاف کیس کی سماعت
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی نظربندی کے خلاف دائر درخواست پر فریقین سے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے دلائل طلب کیے ہیں۔ یہ گرفتاری اور نظربندیاں ملک میں ممکنہ سیاسی احتجاج اور ریلیوں سے پہلے عمل میں لائی گئی تھیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی نظربندی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سب سے پہلے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیے جائیں تاکہ مقدمے کی آئندہ کی قانونی کارروائی کا تعین کیا جا سکے۔ علیمہ خان کو دیگر رہنماؤں اور فیملی ممبرز کے ساتھ سیاسی جماعت کے متوقع احتجاج سے پہلے حراست میں لیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان کو ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے پیشِ نظر مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف تھا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے یہ انتظامی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکے تھے تاکہ شہر میں معمول کی زندگی متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حراست میں لی گئی شخصیات کے قانونی رفقا نے ان تمام کارروائیوں کو غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا بنیادی آئینی حق ہے اور اس طرح بلاجواز گرفتاریوں کے ذریعے بنیادی حقوق کو سلب کیا جا رہا ہے۔ عدالت عالیہ میں اس معاملے کی باقاعدہ سماعت جاری ہے جہاں قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔