World
اقوام متحدہ کے سربراہ کا عالمی رہنماؤں کو امن میں سرمایہ کاری کا مشورہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی یوم امن کے موقع پر عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کو ختم کرنے کے لیے امن میں عملی سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عالمی برادری بے بس نہیں ہے اور مل کر حالات کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی یوم امن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دنیا بھر کے رہنماؤں کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی اور تنازعات کے دوران حالات کا رخ موڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم بے بس نہیں ہیں، اور امن کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں امن کی اس اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں تعلیم، نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے پروگرام اور سفارتی سطح پر گول میز کانفرنسیں شامل تھیں۔
ماہرین اور عالمی اداروں کا ماننا ہے کہ جنگ اور تنازعات کے انسانی معاشرے پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے محض زبانی جمع خرچ کی بجائے مالی اور عملی وسائل کی فراہمی لازمی ہے۔ سیلشین مشنز جیسے فلاحی اداروں نے بھی اس دن کی مناسبت سے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیمی اور معلوماتی پروگراموں کو اجاگر کیا تاکہ نئی نسل کو امن اور باہمی بقائے باہم کی اہمیت سے روشناس کرایا جا سکے۔ چین کے شہر ہانچوان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں امن کے فروغ کے لیے مباحثے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تاکہ تمام فریقین کو ایک میز پر لایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ پائیدار ترقی اور عالمی خوشحالی کا دارومدار براہ راست پائیدار امن پر ہے، اور جب تک جنگی جنون اور تنازعات کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی، دنیا کے کروڑوں انسانوں کا مستقبل غیر محفوظ رہے گا۔ انہوں نے تمام رکن ممالک اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ نفرت انگیزی اور عداوت کی فضا کو ختم کرکے برداشت، مکالمے اور تعاون کی راہ اپنائیں۔ اس عالمی دن کا بنیادی مقصد انسانوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ باہمی تنازعات کا حل صرف اور صرف گفت و شنید اور امن کے راستے سے ہی ممکن ہے۔