LIVE
Loading Breaking News...

ڈوئچے بینک رپورٹ: عالمی مارکیٹس میں شرح سود میں اضافے کا کم تخمینہ

News Image
ڈوئچے بینک کے ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث مرکزی بینک سخت مالیاتی پالیسیاں اپنانے پر مجبور ہیں۔ مالیاتی مارکیٹس کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں اضافے کو پوری طرح شامل نہیں کیا جا رہا ہے جو مستقبل میں خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
برلن (نیکسورا نیوز اردو) معروف عالمی مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹس ممکنہ طور پر شرح سود میں ہونے والے آئندہ اضافے کے حقیقی پیمانے کو کم اندازہ کر رہی ہیں۔ بینک کے ماہرین کے مطابق عالمی معیشت کو اس وقت شدید نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کی لہر کو مزید تیز کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں دنیا بھر کے مرکزی بینک افراط زر پر قابو پانے کے لیے تیزی سے سخت مالیاتی پالیسیاں نافذ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایس اینڈ پی 500 اور دیگر اہم عالمی انڈیکسز میں سرمایہ کاروں کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ مرکزی بینکوں کی جانب سے سخت گیر فیصلوں کے دورانیے اور شدت کا درست اندازہ نہیں لگا پا رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض حلقوں میں یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کا حالیہ دور اب اپنے اختتام کے قریب ہے یا اس کا دائرہ کار محدود رہے گا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس اشارہ دے رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے کے پیش نظر مرکزی بینکوں کو زیادہ طویل عرصے تک سخت فیصلے برقرار رکھنا پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کے درمیان نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا مالیاتی مارکیٹس آنے والے مہینوں میں کسی بڑے معاشی جھٹکے کے لیے تیار ہیں۔ ڈوئچے بینک کا ماننا ہے کہ اگر مارکیٹس نے بروقت ان خطرات کا ادراک نہیں کیا تو بعد میں اثاثوں کی قیمتوں میں بڑی ردوبدل یا گراوٹ دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ معاشی ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظر نامے اور مرکزی بینکوں کے بیانات پر گہری نظر رکھیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع مالیاتی بحران سے بچا جا سکے۔