World
برکس سمٹ: نئی دہلی میں مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کی خبر
بھارت میں شی جن پنگ کے ممکنہ دورے اور برکس سربراہی اجلاس نے عالمی سطح پر شدید توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کا بھارت کا ممکنہ دورہ اور برکس (BRICS) سربراہی اجلاس عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک بڑی خبر بن چکا ہے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں دنیا بھر کے مبصرین کی نگاہیں نئی دہلی پر مرکوز ہیں، کیونکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دو سال سے بھی کم عرصے میں تیسری ملاقات ہوگی۔ اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی سطح پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر چینی صدر شی جن پنگ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی کا دورہ کرتے ہیں، تو یہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات میں برف پگھلانے کا ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے میں پیدا ہونے والے تناؤ اور سفارتی سرد مہری کے بعد، اس ملاقات کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں رہنما خطے کے امن، معاشی استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع حاصل کریں گے۔
برکس تنظیم کا پلیٹ فارم ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک مؤثر آواز بن چکا ہے، اور اس اجلاس میں دنیا کی اہم ترقی پذیر طاقتیں شرکت کرتی ہیں۔ ایسے میں بھارت اور چین جیسے بڑے ممالک کے سربراہان کا آمنے سامنے بیٹھنا نہ صرف ان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کے تناظر میں بھی انتہائی معنی خیز ہے۔ نیکسورا نیوز اردو کے اس خصوصی جائزے کے مطابق، دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس ممکنہ دورے کی باضابطہ تصدیق کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔