Entertainment
نیٹ فلکس شو بیسٹ آف دی بیسٹ کابل تنازعہ
نیٹ فلکس کے ایک شو 'بیسٹ آف دی بیسٹ' میں کابل کے انخلا کے واقعے پر بنائے گئے ایک مذاق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناظرین اور متاثرین کا کہنا ہے کہ کسی کے صدمے کو مذاق یا تفریح کا ذریعہ بنانا قطعی ناقابل قبول ہے۔
عالمی اسٹریمنگ جائنٹ نیٹ فلکس کی ایک نئی پروڈکشن 'بیسٹ آف دی بیسٹ' اس وقت شدید عوامی اور سوشل میڈیا تنقید کی زد میں آ گئی ہے جب شو کے دوران افغانستان سے امریکی انخلا کے حوالے سے ایک انتہائی حساس واقعے کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔ شو کے اندر کابل سے روانہ ہونے والے 'آخری طیارے' کے واقعے کے بارے میں دیے جانے والے ایک مکالمے پر ناظرین کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ افغان بحران سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس تنازعے کے بعد مختلف حلقوں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہمارا صدمہ کوئی ہنسی مذاق یا تفریح کا سامان نہیں ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کو تخلیقی آزادی کے نام پر تاریخی سانحات اور انسانی المیوں کو ہلکا نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی جنگ زدہ علاقوں کے لوگوں کے دکھوں کو لطیفوں میں تبدیل کرنا چاہیے۔ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران پیش آنے والے مناظر اور کابل ایئرپورٹ کی ابتر صورتحال آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے، اور اس المیے کو سکرین پر کامیڈی کے طور پر پیش کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں تاحال نیٹ فلکس کی جانب سے کوئی باضابطہ معذرت یا بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن عوام اور شائقین کی طرف سے اس شو کے بائیکاٹ اور سخت الفاظ میں مذمت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں کہ وہ حساس موضوعات پر مواد بناتے وقت زیادہ احتیاط اور اخلاقی حدود کا خیال رکھیں۔