Business
سر جم ریٹکلف کا برطانیہ میں گیس کے بحران پر اہم کارخانوں میں پیداوار معطل کرنے کا اعلان
برطانیہ میں گیس کی قیمتیں امریکہ کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ ہونے کی وجہ سے انیوس نے اہم پلانٹس میں پیداوار روک دی ہے۔ سر جم ریٹکلف نے صنعتی شعبے کو درپیش ان مالی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ کے معروف صنعتکار اور انیوس (Ineos) کے سربراہ سر جم ریٹکلف نے برطانیہ میں گیس کی انتہائی بلند قیمتوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ملک کے کئی اہم کارخانوں میں پیداوار معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق برطانیہ میں قدرتی گیس اس وقت امریکہ کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ مہنگی فروخت ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے کاروباری لاگت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئی ہے اور صنعتی پیداوار کو جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔
سر جم ریٹکلف طویل عرصے سے برطانوی حکومت کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صنعتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں جب گیس کی فراہمی کے نرخ اتنے زیادہ ہوں تو برطانوی کارخانوں کا عالمی منڈی میں دیگر ممالک بالخصوص امریکی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ اس معطلی سے برطانوی صنعتی شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے بلکہ ملکی معیشت کی بحالی کے عمل کو بھی دھچکا لگے گا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اگر برطانوی حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ملک کی دیگر بڑی صنعتیں بھی اپنے پلانٹس بیرونِ ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔ انیوس کے اس فیصلے کو برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑی انتباہی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ صنعتی شعبے کو بچانے کے لیے فوری طور پر توانائی کی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔