LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا مینیسوٹا سائبر حملہ، ایران کی بجائے گورنر ٹم والز کو ذمہ دار قرار

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مینیسوٹا کے واٹر سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس حملے کا ذمہ دار ریاست کے گورنر ٹم والز اور ان کی انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مینیسوٹا ریاست کے درجنوں واٹر سسٹمز کو نشانہ بنانے والے سائبر حملے کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس حملے کے بعد یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اس کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہو سکتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے ان تمام رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی توجہ ریاست کے سیاسی رہنماؤں کی طرف مبذول کرائی ہے۔ ٹرمپ نے اس تمام صورتحال کا براہ راست ذمہ دار مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور ان کی انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے گورنر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ریاست کے نظام کو کمزور اور کرپٹ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق، مینیسوٹا کے واٹر سسٹمز پر ہونے والا یہ سائبر حملہ ریاست کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی ایک بڑی کوشش تھی۔ ابتدائی طور پر تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ آیا اس حملے کے پیچھے کسی بیرونی ملک بالخصوص ایران کا ہاتھ تو نہیں ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں امریکی تنصیبات پر سائبر حملوں میں بیرونی عناصر کی موجودگی کے شبہات بڑھ گئے تھے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے انٹیلی جنس اور سکیورٹی حلقوں کے اس مبینہ دعوے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس معاملے کو بیرونی طاقتوں سے جوڑنا حقائق سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل مسئلہ ریاست کے اندرونی انتظامات اور گورنر کی ناقص کارکردگی ہے۔ گورنر ٹم والز اور ان کی ٹیم کی طرف سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ اور سخت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے حلقوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو سیاسی انتقام اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سائبر حملے کی تکنیکی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس کے پیچھے دراصل کون سے عناصر ملوث تھے۔ دریں اثنا، ریاست کے آبی نظام کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔