World
ایران میں قید جوڑے کے اہل خانہ کی باقاعدہ رابطے کی شکایت
ایران میں حراست میں لیے گئے کریگ اور لنڈسے فورمین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے باوجود انہیں باقاعدہ رابطے کی سہولت نہیں دی جا رہی۔ یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ایران میں حراست میں موجود غیر ملکی جوڑے کریگ اور لنڈسے فورمین کے اہل خانہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں تاحال زیر حراست جوڑے سے باقاعدہ اور تسلی بخش رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جب یہ جوڑا اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دے گا تو انہیں باقاعدہ رابطے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، لیکن اس کے باوجود صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔
یاد رہے کہ اس جوڑے نے اپنی گرفتاری اور قید کے حالات کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ خاندان مسلسل اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ زیر حراست افراد کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے اور انہیں اپنے پیاروں سے بات کرنے کا بنیادی حق دیا جائے تاکہ ان کی صحت اور سلامتی کے بارے میں مکمل اطمینان ہو سکے۔
خاندان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے وعدے تو کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر ان پر عمل درآمد انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ کریگ اور لنڈسے فورمین کے لیے فوری اور بلا تعطل رابطے کو یقینی بنایا جا سکے اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔