LIVE
Loading Breaking News...

آئی سی ای فائرنگ کا واقعہ: گولی پیٹھ میں پھنسی ہونے کے باوجود متاثرہ شخص حراست میں

News Image
امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کے ایجنٹ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص اس وقت حراست میں ہے جبکہ اس کی کمر میں اب بھی گولی موجود ہے۔ واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی ریاست میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ کا نشانہ بننے والا شخص اس وقت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں حراست کاٹ رہا ہے، کیونکہ طبی امداد کی عدم دستیابی یا تاخیر کے باعث اس کی کمر میں اب بھی گولی پھنسی ہوئی ہے۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد امریکہ بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات اور تارکین وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں متاثرہ شخص کو شدید نوعیت کے زخم آئے تھے، جن کا بروقت اور مکمل طبی علاج نہ صرف قانونی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ واقعے کے فورا بعد متاثرہ شخص کو ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے مکمل سرجری کے ذریعے گولی نکالنے کا عمل تادم تحریر التواء کا شکار ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس لائحہ عمل کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ شخص کو فوری طور پر کسی اعلیٰ معیار کے ہسپتال میں منتقل کر کے اس کی کمر سے گولی نکالی جائے تاکہ اس کی جان کو مزید خطرہ لاحق نہ ہو۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام نے اس پورے واقعے پر تحقیقات کا عندیہ تو دیا ہے تاہم تادم تحریر حراستی مرکز میں موجود اس شخص کی طبی حالت کے حوالے سے کوئی تسلی بخش بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں تارکین وطن کی حفاظت اور امیگریشن حکام کے جابرانہ رویوں کے خلاف ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔