LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے کشتیوں پر حملے، اقوام متحدہ کا سنگین انتباہ

News Image
اقوام متحدہ نے امریکہ کی جانب سے منشیات کی روک تھام کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن ان حملوں کو جان لیوا منشیات کا بہاؤ روکنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے حلقوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک انتہائی اہم اور سنگین بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سمندری حدود میں کشتیوں پر کیے جانے والے حملے مبینہ طور پر 'انسانیت کے خلاف جرائم' کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی فوجی یا نیم فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوسکتی ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن نے اپنے دفاع میں ان حملوں کو مکمل طور پر درست اور ناگزیر قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں امریکہ میں آنے والے جان لیوا منشیات کے بہاؤ کو روکنے اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ واشنگٹن انتظامیہ کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی سمندروں میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف سخت قدم اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اندرونِ ملک شہریوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں اور منشیات کے کارٹلز کی کمر توڑی جا سکے، جن کے پاس مہلک کیمیکلز اور منشیات کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی قانون دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقاصد کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، کارروائیوں کا دائرہ کار اور طریقہ کار بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ طاقت کا بے جا استعمال اور بغیر مناسب عدالتی کارروائی کے اس طرح کے حملے انسانی حقوق کی سنگین پامالی بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس تازہ بیان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی سطح پر مزید بات چیت ہوگی اور امریکہ پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ اپنی سمندری حکمت عملی پر نظرثانی کرے تاکہ معصوم جانی نقصان سے بچا جا سکے اور عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔