LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں شام کا نیا وژن: شامی عوام کی سلامتی اور انصاف کی طلب

News Image
صدر الشارع کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 'نئے شام' کا وژن پیش کیے جانے کے امکان پر اندرون ملک شامی عوام نے سخت تحفظات اور توقعات کا اظہار کیا ہے۔ شامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے سیاسی یا سفارتی وژن سے پہلے ملک میں امن، سلامتی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں صدر الشارع کی جانب سے 'نئے شام' کا وژن پیش کیے جانے کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم اس سفارتی پیشرفت کے مقابلے میں ملک کے اندر موجود شامی شہریوں کی ترجیحات انتہائی واضح اور بنیادی نوعیت کی ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کیے جانے والے بلند بانگ دعوے اور تجاویز اس وقت تک کوئی حقیقی معنی نہیں رکھتیں جب تک گراؤنڈ پر عام انسان کی زندگی میں بہتری نہیں آتی۔ شام کے مختلف علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل خانہ جنگی اور عدم استحکام کے بعد ان کی اولین ترجیح محض بقا اور تحفظ ہے۔ شامی عوام کا مطالبہ ہے کہ ملک میں پائیدار امن قائم کیا جائے تاکہ وہ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے متاثرین کے لیے انصاف کی فراہمی بھی ایک ناگزیر مطالبہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی قسم کے 'نئے نظام' یا 'نئے شام' کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بین الاقوامی برداری اور شامی قیادت کے درمیان سوچ کا یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اندرون ملک چیلنجز کتنے گہرے ہیں۔ اگرچہ سفارتی سطح پر ملک کی بحالی اور سیاسی اصلاحات کے لیے نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں، لیکن عام آدمی کی روزمرہ کی مشکلات، معاشی بحران اور بنیادی سہولیات کا فقدان فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عوام کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب محض وعدوں پر اکتفا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیے جانے والے اس نئے وژن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ زمینی حقائق سے کتنا ہم آہنگ ہے۔ جب تک شامی شہریوں کو حقیقی معنوں میں تحفظ، معاشی استحکام اور قانون کی حکمرانی کا یقین نہیں دلایا جاتا، اس نوعیت کی تجاویز شامی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اقوام متحدہ کے فورم پر ہونے والے مذاکرات شامی عوام کی زندگیوں پر کیا مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔