World
یوکرین پر روسی حملے، تین ہلاک، زیلنسکی امریکہ میں
نیویارک میں اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کے دوران روس کے رات بھر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اس وقت امریکی دورے پر موجود ہیں جہاں وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے سالانہ سربراہی اجلاس کے موقع پر روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف علاقوں پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان تازہ حملوں نے ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کی ہے جب دنیا بھر کے رہنما بین الاقوامی مسائل پر غور کرنے کے لیے امریکہ میں جمع ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق، رات بھر ہونے والی ان بمباریوں نے متعدد رہائشی علاقوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں تاکہ وہ یوکرین کے لیے مزید بین الاقوامی حمایت حاصل کر سکیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں۔ ان حملوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ سفارتی کوششوں اور عالمی سطح پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یوکرین کے حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے اور یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرے۔
حملوں کے بعد یوکرین کے کئی شہروں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی صورتحال اس وقت انتہائی نازک موڑ پر ہے اور اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری یہ تنازعہ عالمی معیشت اور سکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔