Business
نوکری کے حصول کے لیے نوجوانوں کی مالی قربانیاں اور مارکیٹ کی صورتحال
موجودہ دور میں جاب مارکیٹ کی خرابی کی وجہ سے نوجوان نوکری پانے کے لیے مختلف طریقوں سے مالی قیمت چکانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ رجحان دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور نوکری کے متلاشی نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
موجودہ دور میں دنیا بھر میں داخلہ سطح کی ملازمتوں یعنی انٹری لیول جاب مارکیٹ کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ اب نوجوان نوکری حاصل کرنے کے لیے مالی قربانیاں دینے اور مختلف پلیٹ فارمز پر پیسے ادا کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ روایتی طریقوں سے نوکری کا حصول اب اتنا آسان نہیں رہا جتنا ماضی میں ہوا کرتا تھا، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جاب مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، مسابقت اتنی شدید ہو چکی ہے کہ امیدواروں کو اپنے रिज्यूमे کو نمایاں کرنے یا نام نہاد کنسلٹنٹس اور پلیٹ فارمز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس رجحان نے نوکری کے متلاشی نئے گریجویٹس کو شدید مالی اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کمپنیاں اب تجربہ کار لوگوں کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ نئے آنے والوں کے لیے مواقع انتہائی محدود ہو گئے ہیں۔ ایسے میں مختلف تھرڈ پارٹی ادارے اور پلیٹ فارمز اس مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نوجوانوں کو ملازمت کے جھانسے دے کر مالی رقوم وصول کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جاب مارکیٹ کا یہ ٹوٹا ہوا نظام درست نہ کیا گیا تو نوجوان نسل کے لیے معاشی خود مختاری کا حصول ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ حکومتوں اور کارپوریٹ سیکٹر کو مل کر اس مسئلے کا پائیدار حل نکالنا ہوگا تاکہ نوکری کے حصول کے عمل کو منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکے، اور نوجوانوں کو مالی استحصال سے بچایا جا سکے۔