LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ اور پالیسیاں

News Image
امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کا باضابطہ میزبان ہونے کے باوجود اسے کمزور کرنے کی کوششیں دہائیوں پر محیط ہیں۔ تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن نے ہمیشہ اپنے مفادات کے تحت عالمی ادارے کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
عالمی سطح پر یہ بحث ہمیشہ سے جاری رہی ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے سب سے بڑے مالی معاون یعنی امریکہ کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو بے شمار جیو پولیٹیکل چیلنجز کا سامنا ہے، یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے کردار کو محدود یا کمزور کرنا کوئی نئی حکمت عملی نہیں ہے بلکہ یہ دہائیوں پرانی پالیسی کا حصہ ہے۔ اگرچہ امریکہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کا باضابطہ میزبان ہے اور اس ادارے کے قیام میں بھی اس کا کلیدی کردار رہا ہے، لیکن تاریخی طور پر دیکھا جائے تو واشنگٹن نے کبھی بھی ایسے اقدامات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا جو اس کی خود مختاری یا عالمی بالادستی کے خلاف ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اقوام متحدہ نے امریکی مفادات کے منافی کوئی مؤقف اختیار کیا یا بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی امریکی فیصلے پر تنقید کی، تو واشنگٹن کی طرف سے اس ادارے کی مالی معاونت میں کٹوتی یا اس کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سرد جنگ کے دوران بھی اور اس کے بعد کے برسوں میں بھی، امریکہ نے سلامتی کونسل اور دیگر ذیلی اداروں میں اپنے ویٹو پاور کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایسے کئی فیصلوں کو روکا جو اس کے اتحادیوں یا اس کے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف تھے۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں جیسے کہ عالمی ادارہ صحت، انسانی حقوق کونسل اور یونیسکو سے امریکہ کا وقتاً فوقتاً الگ ہونا یا فنڈنگ روکنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ واشنگٹن عالمی ادارے کو اپنے مطابقت میں چلانے کا خواہاں رہا ہے۔ ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات کا ماننا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی عالمی نظام پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں امن، انسانی حقوق کے تحفظ اور تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کر رہا ہے، لیکن طاقتور ممالک کی مداخلت بالخصوص امریکہ کی طرف سے دباؤ کے باعث اس کی کارکردگی اور غیر جانبداری پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا عالمی ادارے خود کو بڑی طاقتوں کے دباؤ سے آزاد کرا پائیں گے یا پھر ان کی حیثیت محض ایک کٹھ پتلی ادارے کی ہی رہ جائے گی۔