World
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، ترک صدر کا ویٹو پاور ختم کرنے کا مطالبہ
ترکیہ کے صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے ویٹو کے استحقاق کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ اس اہم عالمی معاملے پر مختلف ممالک کی جانب سے الگ الگ مؤقف سامنے آ رہے ہیں جبکہ بعض بڑی طاقتیں اس میں تبدیلی کی مخالفت کر رہی ہیں۔
ترکیہ کے صدر نے ایک بار پھر عالمی سطح پر آواز اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری اور جامع اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حقائق کے پیش نظر سلامتی کونسل کا ڈھانچہ فرسودہ ہو چکا ہے اور اس میں دنیا کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ممالک کے پاس موجود ویٹو کے خصوصی اختیارات عالمی امن اور انصاف کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں، لہذا اس استحقاق کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب اس معاملے پر عالمی برادری کی آراء منقسم دکھائی دیتی ہیں۔ کریملن (روس) نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی حمایت تو کی ہے تاہم اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مستقل اراکین اور ان کے ویٹو کے اختیارات برقرار رہنے چاہئیں۔ ماسکو انتظامیہ کے مطابق کونسل کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی طاقتوں کے یہ اختیارات انتہائی اہم ہیں۔ ادھر دیگر ممالک بھی اس بحث کا حصہ بن چکے ہیں جہاں فرانس اور میکسیکو کی میزبانی میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھارت سمیت کئی دیگر ریاستوں نے بھی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس کے علاوہ برطانیہ بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو نسل کشی اور بڑے انسانی جرائم کے معاملات میں اقوام متحدہ کے ویٹو کے اختیارات کو محدود کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ دنیا بھر سے 128 ممالک پر مشتمل یہ گروپ اس بات کا خواہاں ہے کہ سنگین انسانی بحرانوں کے دوران ویٹو پاور کا غلط استعمال روکا جائے تاکہ عالمی ادارے کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے ہی اس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، لیکن سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ترک صدر کا یہ تازہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو متعدد پیچیدہ تنازعات کا سامنا ہے اور عالمی اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ موضوع عالمی سفارت کاری میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔