LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر کا رابطہ، دھرنا مؤخر

News Image
وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر کو ٹیلی فون کر کے اسلام آباد کا دھرنا اور لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت کے بعد جماعت اسلامی نے اپیل پر احتجاجی لانگ مارچ فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کشیدہ سیاسی صورتحال کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر کو براہ راست ٹیلی فون کیا اور ملک کی موجودہ معاشی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کے متوقع دھرنے اور طویل مارچ کو مؤخر کرنے کی پرزور اپیل کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اس اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی اور حکومتی و اپوزیشن کی سطح پر مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی اس اپیل کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا اور جاری معاشی اصلاحات کے دوران کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار سے بچنا تھا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں چند اہم امور پر پیشرفت بھی دیکھی گئی، جس کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت نے عارضی طور پر اپنے احتجاجی منصوبے میں تبدیلی کی۔ اس پیشرفت کے نتیجے میں جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی اپیل کا مثبت جواب دیتے ہوئے اسلام آباد کی طرف ہونے والے طویل مارچ اور دھرنے کو فی الحال مؤخر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اگرچہ دھرنے کو مؤخر کر دیا گیا ہے تاہم جماعت اسلامی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ عوام پر پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے بوجھ کے خلاف ان کا احتجاج اور سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز اور ریلیف پیکج پر غور کر رہی ہے تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو کسی حد تک سہولت فراہم کی جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا جمہوریت کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جس سے ملک میں محاذ آرائی کی بجائے افہام و تفہیم کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔