World
پاکستان کا او آئی سی سے اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد نے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا ہے تاکہ اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں لایا جا سکے۔
پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر عالمی برادری اور اسرائیل پر واضح کیا ہے کہ غزہ اور فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ پاکستان سمیت آٹھ اہم مسلم ممالک نے اسرائیل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے حوالے سے طے پانے والے امن منصوبے پر اس کی پاسداری کو یقینی بنائے اور جنگ بندی کے معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیاں بند کرے، جن سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے بیانات میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے جاری غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور اراضی کے الحاق کے اقدامات کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو اس نازک موڑ پر خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک مؤثر، مربوط اور عملی حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے تاکہ فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کیا جا سکے اور قابض افواج کو ان کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان اس نوعیت کا مشترکہ اور ٹھوس مؤقف وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کا یہ سفارتی اقدام اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی قوانین کی پاسداری کی جائے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق تسلیم کیے جائیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں دہائیوں پر محیط تنازع کا منصفانہ حل نکل سکے۔