LIVE
Loading Breaking News...

جاپان میں طوفان ڈুজان کا حملہ، بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 4 ہلاک

News Image
جاپان میں طاقتور طوفان ڈুজان کے باعث ہونے والی شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ طوفان کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں سفری نظام معطل اور سیلاب کے خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ٹوکیو: جاپان میں طوفان ڈুজان نے شدید بارشوں اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں شدید تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم چار افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ طوفان کے ٹوکیو اور اس کے گردونواح کے علاقوں سے ٹکرانے کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی حالات کا نفاذ کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ طوفان کے باعث چلنے والی تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، طوفان ڈুজان کے باعث ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف پہاڑی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں جن کی زد میں آ کر سڑکیں اور رہائشی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیموں کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیا گیا ہے جو ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور پھنسے ہوئے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ طوفان کے پیش نظر جاپان کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو شدید دھچکا لگا ہے، اور حکام نے ٹرین سروسز معطل کرنے کے ساتھ ساتھ پروازیں بھی منسوخ یا تاخیر کا شکار کر دی ہیں۔ مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ ساحلی علاقوں سے مکینوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید بارشیں ہو سکتی ہیں، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط سے کام لیں اور گھروں کے اندر ہی رہیں۔ وزیراعظم اور متعلقہ اداروں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور صورتحال بہتر ہونے تک ہنگامی اقدامات جاری رہیں گے۔