Business
ڈوئچے بینک کی وارننگ، عالمی مارکیٹ میں شرح سود بڑھنے کا خدشہ
ڈوئچے بینک کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں متوقع اضافے کو کم سمجھ رہی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی قابو میں لانے کے لیے شرح سود بلند ترین سطح تک جا سکتی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے جاری مالیاتی سختی کے دوران مالیاتی منڈیاں ایک بار پھر شرح سود کی حتمی سطح کو کم سمجھ رہی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مرکزی بینکوں کو توقع سے زیادہ جارحانہ اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ بین الاقوامی معاشی مبصرین کے مطابق، دنیا کے بڑے مرکزی بینک مسلسل شرح سود میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکا جا سکے، تاہم سرمایہ کار تاحال اس بحران کی شدت کا مکمل ادراک نہیں کر پا رہے۔ ڈوئچے بینک کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے کا یہ چکر توقع سے زیادہ طویل اور سخت ہو سکتا ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں دنیا بھر میں مہنگائی کو ہوا دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے مرکزی بینکوں کے پاس شرح سود کو بلند ترین سطح پر برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مارکیٹ نے اس صورتحال کا بروقت اندازہ نہ لگایا تو مستقبل میں سرمایہ کاروں کو شدید نوعیت کے معاشی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی معیشت کے اس نازک موڑ پر تمام اہم معاشی اشاریے اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ مالیاتی منڈیوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں سے یہ واضح ہو جائے گا کہ عالمی سطح پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کتنی بڑی قربانیاں دینی ہوں گی۔