World
یورپی یونین کے نئے قوانین: برطانیہ کو نقصان کا اندیشہ، برہم کا انتباہ
برہم نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے نئے صنعتی قوانین برطانوی معیشت اور صنعت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم اس حوالے سے یورپی کمیشن کی صدر سے ملاقات میں اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کریں گے۔
برہم نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے متعارف کروائے جانے والے نئے صنعتی قوانین برطانیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ان قوانین پر نظرثانی نہ کی گئی تو اس سے برطانوی صنعتوں اور کاروباری شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے برطانوی حکومت انتہائی سنجیدگی کے ساتھ غور کر رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ متوقع طور پر اس تنازعے سے دونوں اطراف کے تجارتی تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج بعد میں یورپی کمیشن کی صدر سے ملاقات کریں گے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وہ یورپی یونین کے ان متنازعہ صنعتی قوانین پر اپنے گہرے تحفظات براہ راست پیش کریں گے۔ وزیر اعظم کا یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ برطانوی حکومت ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس ملاقات میں باہمی تعاون اور تجارتی مسائل کے حل کے لیے بھی تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان ضابطہ کار کے معاملات پر اختلافات ایک طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ نئے صنعتی قوانین نے ان خدشات کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے کہ آیا برطانوی کمپنیاں یورپی مارکیٹ میں مسابقتی پوزیشن برقرار رکھ سکیں گی یا نہیں۔ وزیراعظم کی یورپی کمیشن صدر کے ساتھ یہ ملاقات انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے آئندہ کے لائحہ عمل اور تجارتی معاہدوں کی سمت کا تعین ہوگا۔ پوری دنیا کی نظریں اس وقت اس ملاقات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین کسی متفقہ حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔