LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس پُول اور ڈونلڈ ٹرمپ کا تنازع

News Image
وائائٹ ہاؤس پُول وہ صحافیوں کا مخصوص گروپ ہے جو صدر کی سرگرمیوں کی کوریج فراہم کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسی پُول کے نظام اور ٹی وی نیٹ ورکس کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شدید تنازع سامنے آیا ہے۔
امریکی سیاست اور میڈیا کے حلقوں میں ان دنوں وائٹ ہاؤس پُول کا معاملہ شدت سے زیر بحث ہے، جس کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس پُول دراصل نامہ نگاروں، فوٹوگرافروں اور کیمرہ مینوں پر مشتمل ایک چھوٹا اور مخصوص گروپ ہوتا ہے جو امریکی صدر کی روزمرہ کی مصروفات، دوروں اور اہم اعلانات کی کوریج کرتا ہے۔ اس پُول کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ تمام خبر رساں اداروں اور میڈیا ہاؤسز کو صدر کے بیانات اور سرگرمیوں تک بروقت رسائی حاصل ہو، کیونکہ صدر کے ساتھ ہر وقت تمام میڈیا کا جانا عملاً ناممکن ہوتا ہے۔ حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی طرف سے میڈیا کوریج کے طریقہ کار، پُول کے اراکین کے انتخاب اور خبروں کی ترسیل پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار روایتی میڈیا ہاؤسز اور بالخصوص ٹی وی نیٹ ورکس پر جانبدارانہ کوریج کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کا مؤقف ہے کہ پُول کا نظام شفافیت اور عوام تک درست معلومات پہنچانے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت آزادی صحافت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کشمکش نے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس اور مین سٹریم میڈیا کے درمیان طویل عرصے سے چلی آ رہی خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کا میڈیا کے ساتھ یہ محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم پُول کے نظام کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی اور میڈیا محاذ پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ فریقین کی جانب سے اس معاملے پر اپنے اپنے بیانات دیے جا رہے ہیں جبکہ عوام کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ میڈیا وار کیا رخ اختیار کرتی ہے۔